نئی دہلی،16؍جون(ایس او نیوز؍ایجنسی)پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد میں ہندوستانی ہائی کمیشن کے 2 افسروں کو چھوڑ دیا گیا ہے- پاکستان نے یہ قدم ہندوستان کی وزارت خارجہ کے پاکستانی ہائی کمیشن کے ایگزی کیٹیوہائی کمشنر کو طلب کرنے کے بعد اٹھایا- اس دوران ہندوستان نے پاکستان کو ہدایت دی تھی کہ دونوں افسروں کو ان کی سرکاری گاڑیوں سمیت ہندوستانی ہائی کمیشن واپس بھیجا جائے، جس کے بعد پاکستان نے دونوں ہی افسروں کو چھوڑ دیا-
حالانکہ وزارت خارجہ کے ساتھ پاکستان کے ایگزی کیٹیوہائی کمشنر نے واضح کیا کہ افسروں سے کوئی پوچھ گچھ یا ان کا استحصال نہیں ہوگا- متعلقہ سفارتی ملازمین کے تحفظ کیلئے پاکستانی افسروں کو ذمہ داری دی گئی ہے- لیکن اس کی تھوڑی ہی دیر کے بعد پاکستانی حکومت نے دونوں افسروں کو ہائی کمیشن واپس بھیج دیا-
پاکستان کے جیو ٹی وی نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے ان دونوں افسروں کو ہٹ اینڈ رن معاملہ میں گرفتار کیا ہے- جیو نیوز کے مطابق ان دونوں افسروں کی گاڑی سے ایک شخص سنگین طور پر زخمی ہوگیا تھا- پاکستان نے یہ بھی الزام لگایا کہ یہ دونوں افسر اس شخص کو وہیں چھوڑ کر وہاں سے فرار ہوگئے تھے، جس کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا ہے-
غور طلب ہے کہ اسلام آباد میں ہندوستانی ہائی کمیشن میں کام کرنے والے دو ہندوستانی افسر اپنی آفیشیل گاڑی سے ہائی کمیشن جانے کیلئے پیر کی صبح تقریبا ًساڑھے 8 بجے نکلے تھے، لیکن وہ وہاں نہیں پہنچے- اسی کو لے کر ہندوستانی وزارت خارجہ نے پاکستان کے ایگزی کیٹیو ہائی کمشنر کو طلب کیا تھا- اس کے بعد جانکاری ملی کہ ان افسروں کو مبینہ طور پر ہٹ اینڈ رن معاملہ میں گرفتار کیا گیا ہے-
واضح رہے کہ کچھ دن پہلے آئی ایس آئی کے ایجنٹوں نے ہندوستانی سفارت کار گوراو اہلووالیا کی گاڑی کا پیچھا کیاتھا- اس کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھی- اہلووالیا کے گھر کے سامنے آئی ایس آئی کے کچھ ایجنٹ بھی تعینات تھے- ہندوستان نے اس وقت بھی پاکستان کی وزارت خارجہ کے خلاف احتجاج درج کرایا تھا-
ہندوستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے پاکستان کو ایک سفارتی نوٹ بھی دیا گیا،جس میں کہا گیا ہے کہ مارچ سے ہندوستانی سفارتکاروں کو ہراساں کرنے کے13واقعات سامنے آئے ہیں - ہندوستان نے خبردار کیا ہے کہ یہ عمل پاکستان میں فوری طور پر رک جانا چاہئے-یکم جون کو، دہلی پولیس نے پاکستانی سفارتخانے کے دو اہلکاروں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیاتھا- یہ افراد کسی شخص کو پیسے کا لالچ دے رہے تھے اور سکیورٹی سے متعلق دستاویزات لے رہے تھے- دونوں جاسوس سفارت خانے میں ویزا معاون کے طور پر کام کرتے تھے-
اس نے پکڑے جانے پر خود کو ہندوستانی شہری ثابت کرنے کی کوشش کی- ان کے پاس جعلی آدھار کارڈز، ہندوستانی کرنسی اور آئی فون تھے- ہندوستان نے ان دونوں افسروں سے24گھنٹوں کے اندر اندر ملک چھوڑنے کو کہا تھا-